April 3, 2020

پیمرا ایکٹ کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم

January 21, 2020

پیمرا ایکٹ میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت پیمرا پارلیمنٹ اور اس کے ممبران کے خلاف ہونے والے پروگرامز پر ازخود نوٹس لے سکے ایسا کہنا تھا چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کا جو آج نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کاشف عباسی کا شو کس نے بند کروایا؟


اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چئیرمین پیمرا محمدسلیم بیگ نے بتایا کہ کاشف عباسی کے پروگرام آف دا ریکارڈ کو دوبارہ نشر کرنے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیاگیا تھا.پیمرا نے انہیں اس پروگرام کو دوبارہ نشر کرنے سے منع کیا گیا تھا جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی۔ کاشف عباسی نے پروگرام کو نشرمکرر میں چلانے پر معافی مانگی ہے۔ اور ان کی اس معافی پر چوبیس جنوری کو مزید کاروائی کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی نے اس پروگرام کے متعلق شکایت نہیں کی اور اس پروگرام پر پیمرا نے ازخود نوٹس لیا ھے ۔

کمیٹی ممبر نفیسہ شاہ نے استفسار کیا کہ روزانہ ٹی وی چینلز پر پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز پر بے بنیاد الزام تراشی کی جاتی ہے تب پیمرا از خود نوٹس کیوں نہیں لیتا۔ اس پر چیئرمین پیمرا نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا قانون کے مطابق صرف فوج اور عدلیہ کے خلاف آن ائیر ہونے والے مواد کے خلاف ازخود نوٹس لے سکتا ہے۔ اس پر چیرمین کمیٹی میاں جاوید لطیف نے ایم این اے نفیسہ شاہ کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کئےتاکہ اس حوالے سے قانون کا جائزہ لیا جا سکے۔

چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کوبتایا کہ گزشتہ ایک سال میں نوے سے زائد شکایات پر پیمرا نے مختلف چینلز کے خلاف کارروائی کی ۔ کمیٹی کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا اس مہمان کے خلاف بھی جو پروگرام میں بوٹ لےکر آیا کوئی کاروائی کی کی گئی ؟ اس پر چیرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ پیمرا صرف لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کرسکتاہے۔

محمد سلیم بیگ کے مطابق ویب ٹی وی اور یوٹیوب پر نشر ہونے حوالے پروگراموں کے حوالے سے پیمرا پی ٹی اے کے ساتھ مل کر اقدامات کررہاہے ۔تاہم اس حوالے سے کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے ۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment