06/28/2022

پاکستان میں فیک نیوز کے نام پر اظہارِ رائے کی روک تھام کا انتھک مرحلہ

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ترمیمی آرڈیننس کی صدر مملکت سے منظوری کے بعد اس کے نافذ العمل ہونا نئے سال کے آغاز میں پاکستان میں آزادئ اظہار رائے اور صحافیوں پر ایک اور قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔ سائبر کرائمز لاء کے سیکشن 20 میں کی جانے والی ترامیم کے مطابق آن لائن ھتکِ عزت کی سزا پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے اس سزا کی حد تین سال تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن ھتکِ عزت کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا۔  جبکہ عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ان کیسسز کا فیصلہ چھہ  ماہ کے اندر اندر کریں اور متعلقہ ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کی کارکردگی کو اس دوران مانیٹر کرے گی، اور اگر کیس اسلام آباد کی حدود میں ہے تو پراگرس رپورٹ سیکرٹری لاء کو بھی بھیجی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ آرڈیننس ہائیکورٹس کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ کسی بھی وفاقی یا صوبائی حکومت کے عہدیدار کو کیس میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے طلب کر سکتا ہے۔ 

 سائبر کرائم قانون  کے سیکشن 20 میں کی جانے والی ایک اور بڑی ترمیم کے مطابق تشخص کی تعریف میں ایسوسی ایشن ، ادارے، تنظیم یا اتھارٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی آرڈینس کو ملک میں صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف حکومتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اور صحافتی حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کا اس آرڈینس پر شدید ردعمل آرہا ہے۔  اخباری صنعتوں کی تمام تنظیموں نے، جن میں اے پی این ایس ، سی پی این ای، پی بی اے اور پی ایف یو جے شامل ہیں، ، وکلاء تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس ترمیمی آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔  دوسری طرف حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون ‘فیک نیوز’ کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔ 

وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے ان ترامیم کے متعلق اپنی کی جانے والی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ اس قانون کا مقصد میڈیا کو کنٹرول کرنا نہیں اور نہ ہی کسی ایسے صحافی کو ٹارگٹ کرنا ہے جو کہ دیانتداری سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ جس طرح سابق چیف جسٹس اور خاتون اول بشری بی بی کے متعلق فیک نیوز پھیلائی گئی ہیں ان حالات میں فیک نیوز کو روکنے کے لیے یہ قانون ضروری تھا۔ 

اپوزیشن کی جماعتیں ترامیم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کو اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے سینٹر افنان اللہ خان کے مطابق ” یہ ترامیم کالے قانون کے مترادف ہیں۔ حکومت صرف یہ چاہتی ہے کہ جو بھی آواز اس ہائبرڈ رجیم کے خلاف ہے اس کو بند کر دیا جائے۔” ان کا کہنا ہے کہ، “فیک نیوز کی تعریف اور تشریح ہی موجود نہیں تو حکومت کو جو بات پسند نہ آئی وہ فیک نیوز شمار ہو گی۔ ہم اب بھی ان ترامیم  کے خلاف  آواز اٹھا رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔”  

سینئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم یہ سمجھتے ہیں کہ ان ترامیم کا مقصد خوف کی ایک ایسی فضا بنانا ہے جہاں کوئی بھی حکومت اور اداروں کی پالیسیوں پر بحث نہ کر سکے۔ جہاں تک حکومت کی جانب سے فیک نیوز کے تدارک کے لیے اس قانون میں ترمیم کی بات ہے ان کا کہنا ہے کہ، “کوئی بھی فیک نیوز کا دفاع نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز اس حکومت کے وزرا اور خود وزیراعظم نے پھیلائی ہے۔” ابصار عالم کا یہ بھی کہنا ہے کہ، “سیاسی جماعتوں اور اداروں کی ٹرول آرمیز تک تو پہچنا بہت مشکل ہو گا لیکن یہ قوانین ان لوگوں کے خلاف ضرور استعمال ہوں گے جو حکومت پر جائز تنقید کرتے ہیں اور حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہیں۔” ابصار عالم خود بھی ماضی میں پیکا کے قوانین کے تحت بغاوت کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔ 

قانونی ماہر بیرسٹر صفی اللہ غوری حکومت کی اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ فیک نیوز کو روکنا بہت ضروری ہے۔ لیکن حکومت کے طریقہ کار سے اتفاق نہیں کرتے۔ “فیک نیوز اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن جس طرح اس آرڈیننس میں ترامیم کی گئی ہیں یہ فیک نیوز کا حل نہیں ہے۔ حکومت اگر فیک نیوز کو روکنا چاہتی ہے تو انویسٹیگیٹو جرنلزم کو فروغ دے، ان اداروں کی حوصلہ افزائی کرے جو فیک نیوز پر کام کرتے ہیں تب جا کے لوگوں کو پتہ چلنا شروع ہو گا کہ فیک نیوز کیا ہے۔”  بیرسٹر صفی اللہ غوری کا مزید کہنا تھا کہ، “اگر گورنمنٹ واقعی فیک نیوز کے تدارک میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے عدالتی نظام کو بہتر کرے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو امپاور کریں۔ سائبر کرائم ونگ کے حالات اتنے برے ہیں ان کے پاس  سائبر کرائمز کی تحقیقات کے لیے ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ اس طرح کے قوانین سوائے اظہار رائے پر قدغن کے اور کچھ بھی نہیں ہیں۔” 

سینئر صحافی رضا رومی سمجھتے ہیں کہ یہ قانون آئین کی روح کے منافی ہے۔ “پیکا کے قانون پر جب یہ مسلم لیگ کے دور میں آ رہا تھا تب بھی بہت بحث ہوئی تھی کہ اس کی بہت سی شکیں جمہوری روایات اور میڈیا کی آزادی کی نفی کرتی تھیں۔ لیکن اب اس نئے آرڈیننس سے تحریر اور تقریر کا حق بری طرح سلب کر لیا گیا ہے۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ کو چھہ  ماہ گرفتار رکھا جائے گا اور آپ کے خلاف تحقیقات اس عرصے کے دوران ہوں گی۔ یہ آئین اور قانون کی روح کے خلاف ہے کہ آپ کسی کو اس کا گناہ ثابت کئے بغیر گرفتار رکھیں اور دوران اس کی تفتیش کرتے رہیں۔” ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز تو خود حکومتی وزراء کی جانب سے پھیلائی جاتی رہی ہے تو کیا حکومت ان کے خلاف کاروائی کرے گی؟    

 پیکا آرڈیننس میں ترامیم کو لیکر  اخباری صنعتوں کی تنظیموں جن میں اے پی این ایس ، سی پی این ای، پی بی اے اور پی ایف یو جے شامل ہیں  اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے نمائندوں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزرات اطلاعات کی میٹنگ سے احتجاجاً واک آوٹ  کیا ہے اور اس قانون کے خلاف ہر طرح کی قانونی اور صحافیانہ جنگ کا عندیہ بھی دیا ہے ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لیتی اس سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔  دوسری طرف اس نئے آرڈیننس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔ کیا آنے والے دنوں میں حکومت سول سوسائٹی ، اپوزیشن جماعتوں، وکلا تنظیموں اور صحافی تنظیموں کے دباؤ پر اس قانون کو واپس لے لے گی یا عدالتیں اس قانون کے خلاف فیصلہ دے دیں گی اس کا فیصلہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔ لیکن اس پر سب کا اتفاق رائے ہے کہ فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا اس قانون کو بہتر بنا جا سکتا ہے؟ 

رضا رومی کا موقف ہے کہ اس قانون کا بہتر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حکومت اس قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرے۔ ” حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرے اور اس پر ایک پارلیمنٹری کمیٹی بنے جو سب سٹیک ہولڈرز جس میں وکلا ، صحافی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور فیک نیوز کے تدارک کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے ساتھ بامعنی مشاورت ہو اور ان کی آراء کی روشنی میں اس قانون میں ترمیم کی جائے۔ ملک میں پارلیمنٹ موجود ہے اس پر وہاں بحث ہونی چاہیے۔ راتوں رات آرڈیننس جاری کر کے آپ اس طرح کے کالے قوانین کے ذریعے شخصی آزادیاں سلب نہیں کر سکتے۔”  

ابصار عالم یہ سمجھتے ہیں کہ جو طریقہ ابھی اختیار کیا گیا ہے یہ مارشل لاء کا طریقہ ہے۔ اس طرح قوانین بنانے سے کبھی بھی بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ “یہ کوئی طریقہ نہیں کہ دو [لوگ] اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر کوئی بھی قانون بنا لیں اور اسے آرڈیننس کی شکل میں نافذ کر دیا جائے۔ اس قانون کو بہتر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے پارلیمنٹ میں لیکر جایا جائے اور دونوں ایوانوں میں اس پر بحث کی جائے۔ اس قانون کو پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیز میں بھیجیں  اور وہاں تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر اس پر بامعنی مشاورت کی جائے اور ان کی آراء کی روشنی میں اس قانون میں بہتری کی جائے”۔ 

پاکستان کی کیسی بدقسمتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کا طرز عمل اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کچھ اور ہوتا ہے اور جب وہی جماعتیں حکومت میں آتی ہیں تو ان خیالات کچھ اور ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں جب مسلم لیگ نون کی حکومت پیکا کا قانون لا رہی تھی تو یہی تحریک انصاف اور عمران خان اس قانون کے سب سے بڑے ناقد تھے۔ اور اسے جمہوری روایات کے منافی قانون گردانتے تھے۔ اور اب حکومت میں آ کر اسی پیکا کے قانون میں مزید ترامیم کا اضافہ کرتے ہوئے انہی جمہوری روایات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینٹر افنان اللہ کہتے ہیں کہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ قانون کل ان کے اپنے گلے کی ہڈی بنے گا۔ یہ بات اس جماعت کے سینٹر کر رہے ہیں جن کی حکومت کو بھی لوگ یہی کہتے تھے کہ پیکا کا قانون آگے چل کر آپ کے ہی خلاف استعمال ہو گا لیکن وہ جماعت قانون بنانے سے باز نہ آئی اور آج وہ پاکستان تحریک انصاف کو تاریخ سے سبق سیکھنے کا کہہ رہے ہیں ۔ لیکن تاریخ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔

Waheed Mubarak is a producer at PTV WORLD, and holds an MPhil in Pakistan Studies from Quaid-i-Azam University, Islamabad.

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.