March 30, 2020

پاکستان میں کرونا وائرس اور ڈیجیٹل پرائیوسی

یہ بات توجہ میں آئی ہے کہ گزشتہ ۱۴ روز میں آپ کا کورونا وائرسس سے متاثرہ شخص سے رابطہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے آپ دوسرے افراد سے علیحدگی اختیار کر لیں اور اگر آپ میں بخار، کھانسی،سانس لینے میں دشواری اور جسم میں درد جیسی علامات ہوں تو اپنے قریبی طبی مرکز تشریف لے جائیں یا ۱۱۶۶ پر رابطہ کریں

یہ وہ ایس ایم ایس میسج ہے جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) وزارتِ صحت کی درخواست پر ایسے افراد کو بھیج رہی ہے جن کے بارے میں انہیں شک ہے کہ ان کا کسی ایسے فرد سے دوران سفر یا کسی اور جگہ ملنا ہوا ہے جوکہ کرونا وائرس میں مبتلا ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ اندروس نے اپنے ٹوئیٹراکاوئنٹ پر اس میسج کے متعلق آگا ہ کرتے ہوئے بتایا کہ ساؤتھ کوریا جیسی جگہوں سے سیکھتے ہوئے انہوں نے وزارتِ صحت کو ایسے لوگوں کو ایس ایم ایس بیھجنے میں مدد کی ہے جوایسے لوگوں کے قریب رہے ہیں جو کہ کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں مزید کہا کہ اگرآپ کو ایسا میسج موصول ہوا ہے تو پرسکون رہیں اور خود ساختہ قرنطینہ میں چلے جائیں۔

ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے تانیہ اندروس کا کہنا تھا کہ وہ اس کام کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیلی کام کمپنیوں کی مدد سے تمام موجود ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو کرونا کا رسک ہو سکتا ہے۔

پوری دنیا اس وقت کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ لاک ڈاؤن ہو رہے ہیں، کر فیو لگ رہے ہیں، اور حکومتیں ہر وہ وسیلہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس سے وہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر سکیں ۔

ساؤتھ کوریا ، تائیوان، سنگاپور اور بہت سے دوسرے ممالک فون ڈیٹا کا استعمال کر کے ان کیسسز کو ٹریس کر رہے ہیں یا لوگوں کی اس کڑے وقت میں نقل و حمل کو مانیٹر کر رہے ہیں اور انہی ملکوں کے ماڈل کو تانیہ اندروس کے بقول پاکستان فالو کر کے لوگوں کو متنبہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پنجاب حکومت کے فوکل پرسن برائے دیجیٹل میڈیا کے مطابق حکومت پنجاب کال ریکارڈز کا سہارا لیکر ایسے لوگوں کو ٹریس کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن کا اندیشہ ہے کہ ان کا کسی ایسے شخص سے میل ملاپ ہوا ہے جس کی تشخیص کرونا وائرس میں ہوئی ہے۔

مختلف حکومتیں سی سی ٹی وی فوٹیجیز، کریڈٹ کارڈ کا استعمال، موبائل فون لوکیشن ڈیٹا، کال ریکارڈز اورجی پی ایس ٹیکنالوجی کا سہارا لیکر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کے حالات میں جب پوری دنیا کرونا سے لڑ رہی ہے اور ہر وہ طریقہ جو اس مہلک وائرس سے نجات دلانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اختیارکیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس وبا کے خاتمے پر اس طرح کے سارے طریقے جو ڈیجیٹل سرویلنس پر مبنی ہیں حکومتوں کے ھاتھوں میں اس تلوار کی طرح تو نہیں ہوں گے جنہیں یہ جب چاہیں چلا لیں۔ کیا ان سارے طریقوں کا غلط استعمال تو نہیں ہوگا؟ کیا ان طریقوں سے لوگوں کی  دیجیٹل پرائیویسی پر زد تو نہیں پڑے گی؟ یہ سارے سوال اہم ہیں لیکن اس ماحول میں ان سارے سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment