06/28/2022

قانون ہونے کے باوجود خواتین صحافیوں کی الیکٹرانک کرائم سے جنگ

مانیہ شکیل ملیر کراچی کی رہائشی ہیں اور 2016 سے وہ شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز  قومی اخبار، پرنٹ میڈیا سے کیا اور گزشتہ چار سال سے وہ الیکٹرانک اور ڈیجٹل میڈیا  سے وابسطہ ہیں۔ 

انہوں نے کلچرل، آرٹ، خواتین کے مسائل، سماجی، سیاسی اور تعلیم  جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کی۔ 

مانیہ شکیل  بتاتی ہیں کہ انہیں اپنے ہی سٹاف ممبر،  اسائمنٹ ایڈیٹر کی  جانب  سے آفس میں نومبر 2020 میں آن لائن ہراسمنٹ  کا سامنا کرنا پڑا اور دوسرا آن لائن ہراسمنٹ کا سامنا انہیں اس وقت کرنا پڑا جب ان کا ایک پیکج آن لائن نشر ہوا۔ وہ بتاتی ہیں، “اس میں میرے کچھ شاٹس لگے ہوئے تھے تو ایک صاحب نے وہ شاٹس ریکارڈ کیے اور انہیں مختلف گروپس میں یہ لکھ کر کہ یہ اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتی ہیں بڑی رپورٹر بنی پھرتی ہیں، شئیر کرنا شروع کر دیے۔” مانیہ مزید کہتی ہیں کہ، “اس کا مقصد  نہ صرف میری حوصلہ شکنی کرنا  بلکہ مجھے اس قدر مجبور کرنا تھا کہ میں نوکری چھوڑ دوں۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ، “مجھے سائبر کرائم لاء اور ورک پلیس ہراسمنٹ لاء کے بارے میں علم تھا اور شکایت بھی میں کر سکتی تھی لیکن محکمے کی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکی۔” مانیہ نے اپنے محکمے سے سپورٹ مانگا لیکن انہیں کسی قسم کی مدد نہیں ملی۔ وہ کہتی ہیں،  “مجھے نفسیاتی طور پر اتنا دباؤ کا شکار کر دیا گیا تھا کہ مجھے مجبوراَ اپنی شکایت واپس لینا پڑی۔”

مانیہ کہتی ہیں کہ ان کے نزدیک خواتین صحافیوں کی الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے قانون کے حوالے سے آگاہی نہیں ہے، اگر کہیں ہے تو وہاں میڈیا کے ادارے اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے شکایت وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کو کرنے نہیں دی جاتی کیونکہ ادارے کو اپنی شہرت کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔

مانیہ کا ماننا ہے کہ ان کے خیال میں خواتین کو اس حوالے سے آگاہی ورکشاپس کروا کر بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ  “میرے کیس  میں میں اس قانون کو جانتی  تھی ، اس کا استعمال جانتی تھی  لیکن ادارے کا ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے پیچھے ہٹنا پڑا۔”

 اس حوالے سے جہاں خواتین میں اگاہی ضروری ہے وہاں ادارے کے سربراہان  کو بھی آگاہی دی جائے تاکہ مزید لوگ امتیازی سلوک کا  شکار نہ ہوں۔  

بہت کم الیکٹرانک میڈیا کے ادارے ہیں جہاں پر مذکورہ قانون کو استعمال کرنے میں مدر فراہم کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے بھی خواتین صحافیوں کو مسائل کا سامنا ہے کہ ادارے جانب دار ہیں، وہ  نہ تو شکایت کرنے والے کی رہنمائی کرتے ہیں اور نہ ہی مدد فراہم کرتے ہیں۔  

الیکٹرانک کرائم کی روک تھام  کے قانون کے حوالے سے مانیہ کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس صورت میں مفید ہے جب اسے استعمال کیا جائے۔ اگر اسے استعمال نہیں کیا جائے گا تو اس کی اہمیت نہیں رہے گی۔ 

خیال  رہے کہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے  قانون کے تحت آپ  شکایات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر خود جا کر، آن لائن  پورٹل یا ای میل کے ذریعے درج کروا سکتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات آن لائن پورٹل اور ای میل کے زریعے بھیجی جانے والی شکایات کو اہمیت نہیں دی جاتی اور نا ہی انہیں ادارے میں دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں شکایات درج کروانے کے لیے خواتین کوایف آئی اے کے قریبی دفتر خود جانا پڑتا ہے۔

فاطمہ رزاق کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ ایک ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم سجاگ  کے ساتھ دو سال سے کام کر رہی  ہیں۔  فاطمہ  ہیومن راٹس ، صنفی اور مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر لکھتی ہیں۔

فاطمہ  بھی دیگر خواتین  صحافیوں کی طرح الیکٹرانک کرائم کی روک تھام  کے قانون کے بارے میں تو جانتی ہیں لیکن انہوں نے اس قانون کو استعمال میں نہیں لایا ہے۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ  انہیں نہیں معلوم کہ مذکورہ قانون صحافی خواتین کے لیے کبھی اچھے طریقے سے استعمال کیا گیا ہو، یا انہیں اس قانون سے کوئی ریلیف ملا ہو۔

وہ کہتی ہیں اگر انہیں انٹرنیٹ پر کوئی ایسا مواد نظر آئے جو خواتین کے خلاف استعمال کیا جا رہا  ہو تو وہ ان خواتین کی شکایت  کے انداراج میں رہنمائی ضرور کرتی ہیں۔

فاطمہ کے مطابق مذکوره  قانون سے ان کے کام  کی نوعیت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ۔ “جب بھی میں کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر لگاتی ہوں تو اس پر کچھ لوگ ٹارگٹ کرتے ہیں، ایسے کمنٹ کرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنے چاہیے لیکن میں نے اس کے خلاف کبھی شکایت نہیں کی۔  میں اکثر ایسے کمنٹس کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔” فاطمہ کہتی ہیں کہ  البتہ کچھ لوگوں کے ساتھ زیادہ شدید رویہ اپنایا جاتا ہے، وہ اسے رپورٹ بھی کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ نہیں نکلتا۔ “اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرح سے مایوسی ہے کہ یہ قانون کارآمد ہے بھی یا نہیں۔” 

فاطمہ رزاق کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے ایسے کیسز میں وقت ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان کیسز میں وقت اتنا لگ جاتا ہے کہ لوگ، خاص کر خواتین،  اپنی شکایت کی پیروی کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔  اکثر خواتین گھر والوں کو ایسے کیسز کے بارے میں بتاتی ہی نہیں ہیں کہ گھر والے اور دوست احباب کیا کہینگے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ قانونی ادارے اتنے اوپن اور مدد گار ہوں کہ اگر کوئی خاتون شکایت کرتی ہے تو اسے تحفظ دیا جائے ناکہ تنگ کیا جائے۔ “جب آپ جاتنے ہیں کہ ادارے بروقت رسپانس  نہیں کر تے تو اس سے مجرموں کو بھی گنجائش مل جاتی ہے، انہیں پتا ہوتا ہے کہ ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جائے گی۔”

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن رپورٹ 2020 کے مطابق انہیں چار سالوں میں 7790 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 4214 خواتین  جبکہ 2516 شکایات مردوں کی  طرف سے کی گئیں۔

اگر شکایات کی شرح دیکھی جائے تو خواتین کی 55 فیصد اور مردوں کی 32 فیصد رہی۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق جن پلیٹ فارمز سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں ان میں فیس بک اور واٹس ایپ شامل ہیں۔

خواتین پر آن لائن ہونے والے تشدد کے خلاف قانونی راستہ 

جنت علی کلیار پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ وہ پچھلے پانچ سال سے وکالت کر رہی ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام سائبر کرائم کے کیسز کے حوالے سے ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ اگر کوئی خاتون صحافی آن لائن ہراسگی کا شکار بنتی ہیں تو ایسے اکثر کیسسز سیکشن 21  کے حوالے سے ہوتے ہیں، جس میں کسی کی تصویر یا ویڈیو پر عریاں تصاویر یا ویڈیو آویزاں کرنے پر بلیک میلنگ کا عنصر شامل ہوتا ہے تو خواتین ایسے کیسز کو رپورٹ کر دیتی ہی۔ ایسے کیسز میں عزت کے نام پر قتل کے ڈر سے خواتین  فیملی کی مدد حاصل نہیں کرتیں۔ ایسے میں اگر انہیں کسی دوسرے شہر جا کر شکایت کرنی پڑے تو یہ خواتین کے لیے ایک بہت بڑی روکاوٹ  ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ کوئٹہ میں ایف آئی اے کا صرف ایک سائبر کرائم  رپوٹننگ سنٹر ہے، اسی طرح پنجاب میں بنیادی سنٹر لاہور میں ہے تو آفس تک رسائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو اکثر خواتین جو دوسرے اور دور دراز کے شہروں میں رہتی ہیں، کو درپیش ہوتا ہے۔ جنت کا کہنا تھا کہ، “آپ بھلے آن لائن بھی شکایت درج کروا دیں لیکن پھر بھی  آپ کو ایف آئی اے کے دفتر جانا پڑے گا۔”

خیال رہے کہ ملکی سطح پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے صرف 15  سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر  کام کر رہے ہیں۔

جنت نے بتایا کہ ایف آئی اے کا شکایات کے ازالے کے لئے ایک مکمل طریقہ کار ہے جو کیس کی نوعیت کے حساب سے ہے۔ لیکن اس طریقہ کار پر عمل نہیں کی جاتا۔

جنت علی بتاتی ہیں کہ سیکشن 20 جو ہتک عزت کے بارے میں ہے، 21 جو تصاویر کے غلط استعمال کے بارے میں ہے، اور 24 جو سائبر اسٹاکنگ کو جرم قرار دیتا ہے، تین سنگین جرم ہیں جوخواتین کو متاثر کرتے ہیں اور ان سے خواتین صحافی بھی متاثر ہوتی ہیں۔ خواتین صحافیوں کو چپ کروانے کے لئے سیکشن 20 اور 21 کے تحت ٹارگٹ کیا جاتا ہے، جھوٹی کہانیاں بنائی جاتی ہیں، ان کی تصاویر پر عریاں تصاویر لگا دی جاتی ہیں۔ سکیشن 24 کے تحت دھمکایا، بلیک میل کیا جاتا ہے۔ 

ان جرائم کی سزائیں بھی ہیں جیسا کہ سکیشن 20 کی تین سال قید اور ایک لاکھ تک جرمانہ، سیکشن 21 میں پانچ سال قید اور تین لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ  سیکشن 24 کی تین سال قید اور ایک لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

جج ان کیسسز میں جرمانہ اور سزا دونوں ایک ساتھ بھی لگا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام  کے  قانون کے تحت تحیقاتی ایجنسی صرف ایف آئی اے ہی ہے جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)  ایک ریگولیٹری اتھارٹی  ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت ایف آئی اے نے کیس کی تحقیقات کرنی ہے لیکن اس قانون میں کچھ سیکشن موجود ہیں جس کے تحت  پی ٹی اے مواد ہٹا سکتا ہے۔ اس میں شکایت کرنے والا خود ایف آئی اے کو یا ایف آئی اے  پی ٹی اے کو مواد ہٹانے کے لئے کہہ سکتا ہے۔

رازداری کے مسائل

جنت بتاتی ہیں کہ خواتین صحافیوں کو زیادہ تر رازداری کے حوالے سے مسائل پیش آتے ہیں ۔ ان کے کیسسز کی معلومات میڈیا میں شائع کی جاتی ہے۔  “پیکا کے قانون کے تحت رازداری بہت ضروری ہے، اگر کسی متاثرہ شخص کی رازداری توڑی جاتی ہے تو اس کے تحقیقاتی آفسر کو سزا دی جائے گی۔ اس طرح کے تحفظات ہونے کے باوجود ہم نے دیکھا ہے کہ قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے۔  دیکھا یہ جاتا ہے کہ ایف آئی اے کی طرف سے صحافیوں کی  پرائیویسی  کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔”

صحافیوں کے حوالے سے اگر سیکشن 20 جو کہ ہتک عزت کے بارے میں ہے، کی بات کریں تو اس میں کوئی تحفظات موجود نہیں ہیں کہ اگر کوئی صحافی تحقیقاتی رپوٹنگ کر رہا ہے تو انہیں اس کی چھوٹ ہو۔ بلکہ صحافیوں کی اکسکلوسیو رپورٹنگ پر ہتک عزت کا الزام لگا کر ان پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہراساں کرنے، حکومت مخالف پوسٹس، توہینِ  مذہب اور فحش مواد سے متعلق شکایات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سائبر کرائم ونگ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر 260 شکایات موصول ہو رہی ہیں جبکہ تین سالوں میں کل 160,000 شکایات موصول ہوئیں۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں 94,000 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے ہراساں کرنے کی 22,300 شکایات تھیں۔

جنت علی کلیار کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے پاس وسائل کی کمی ہے اور اس میں صلاحیت کا فقدان ہے جس میں بہت سے افسران کو انتہائی بنیادی تربیت تک محدود رسائی حاصل ہے۔ ایف آئی اے کے پاس روزانہ کی بنیاد پر صرف 12 سے 15 شکایات کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس وجہ سے آن لائن ہراسانی کا شکار خواتین کو ان مشکلات کا مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو جہاں خواتین صحافیوں میں مذکورہ قانون کے بارے میں آگاہی ضروری ہے، وہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے وسائل اور شکایات کے ازالے کی استدادکار کو بھی بڑھایا جائے تاکہ آن لائن ہراسانی کا شکار خواتین کے مسائل میں کچھ حد تک کمی واقع ہو سکے۔

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.