June 1, 2020

سائبر کرائمز۔56 ہزار درخواستیں صرف 32 کیسسز میں سزا

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کو کمیٹی اراکان کے سخت سوالات کا سامنا رہا۔


ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر نے بریفننگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2019 میں 56 ہزارسے زائد شکایات موصول ہوئی جبکہ صرف 32 کیسسز میں ملزمان کو کورٹ سے سزا ہوئی ہے۔ اس موقع پر کمیٹی چیئرپرسن روبینہ خالد نے کہا کہ جو تھوڑا سا بھی اثرورسوخ رکھتا ہے وھاں سائبر کرائم ونگ والے کاروائی کرنے سے گھبراتے ہیں۔ میرے اپنے کی کیس میں ایف آئی اے نے پروفیسر صاحب کو پکڑ لیا لیکن اصل ملزم کو آج تک نہیں پکڑا۔ اس موقع سینٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم ونگ کی استعداد کار کے مسائل ہیں۔ پورے پاکستان کے لیے صرف دس تفتیش کار ہیں ۔ ان کے پاس تو لوکیٹرز تک نہیں ان حالات میں یہ سائبر کرائمز کو کیسے روکیں گے۔ انہیں اتنا مہنگا سامان لے کے دیا گیا اسے یہ لوگ ابھی تک استعمال میں لانے کے قابل نہیں ہو سکے۔


ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے کمیٹی کو بتایا کہ مانگے تانگے کے سامان سے کام چلا رہے ہیں۔ پورے ملک میں اس وقت پانچ فرانزک یونٹ کام کر رہے ہیں۔ کچھ کمپلینٹس میں شوشل انجینئرنگ کر کے ملزمان تک پہنچ جاتے ہیں لیکن بعض کیسسز میں ڈیٹا بالکل بھی نہیں ہوتا۔ایسے میں متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لکھتے ہیں بعض اوقات معلومات مل جاتی ہیں اور بعض اوقات معلومات میسر نہیں ہوتیں اس صورتحال میں ہم بند گلی میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اور کچھ نہیں کر پاتے۔ ہمارا کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ اس وقت کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہے جو معلومات کے حصول میں کام میں آسکے۔


کمیٹی کے استفسار پر سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے بتایا کہ معاہدہ کا مسودہ اس وقت وزارت داخلہ کے پاس ہے ۔


سینٹر روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ ہماری فورسزز اور ایجنسیز کے پاس ایسے آلات ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے سائبر کرائم کے ملزمان تک پہنچا جا سکتا ہے اور ایف آئی اے کو ان کی مدد لینی چاھیے۔
سینٹر تاج محمد آفریدی کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیا کہ ان کے جی میل اکاوئنٹ کو ہیک کر کے کسی نے اندرون ملک اور بیرون ملک ان کے اکاوئنٹ استعمال کرکے ایک میلز کی ہیں۔ انہوں نے ایف آئی سائبر کرائم ونگ کو اس کی شکایت کی ہے اور ابھی تک کاروائیکا انتظار کر رہے ہیں۔


سیکرٹری وزارت آئی ٹی شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ ان سارے مسائل سے نمٹنے میں سوشل میڈیا کے نئے آنے والے رولز مددگار ثابت ہوں گے۔ سینٹر روبینہ خالد نے اگلے اجلاس میں سوشل میڈیا رولز کی کنسلٹیشن کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کو بھی بریفننگ کے لیے طلب کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی لوگوں کو اس اجلاس میں بلایا جائے گا تاکہ صحیح معنوں میں کنسلٹیشن ہو سکے۔


کمیٹی اجلاس میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اپنے بجٹ کے حوالے سے بھی بریفننگ دی۔ کمیٹی ممبران نے وزارت کے حکام کی تیاری کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اگلے اجلاس میں مناسب تیاری کے ساتھ آنے کی ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کمیٹی کے ارکان کو آئی ٹی کی ایکسپورٹس کے حوالے سے آگاہ کیا کہ اس شعبے کی ایکسپورٹس میں پچھلے چھے ماہ میں 24 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment