June 1, 2020

آزادئ صحافت کا عالمی دن 2020: پاکستانی صحافیوں کا معاشی قتل

اسلام آباد۔۔۔ چیئرمین ملک ریاض صاحب کی طرف سے تمام کارکنوں کو اطلاع کی جاتی ہے کہ چند ناگزیر قانونی اور تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر آپ نیوز (اردو چینل) کو چلانا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے فوری طور پر آج ۱۱ اپریل سے آپ نیوز کی نشریات بند کی جا رہی ہیں۔

یہ اس خط کا ابتدائیہ ہے جس میں بحریہ ٹاؤن اور آپ نیوز چینل کے چیئرمین پاکستان کے بڑے پراپرٹی ڈویلپر ملک ریاض نے آپ نیوز کو بند کرنے کی اطلاع وہاں کام کرنے والے کارکنان کو دی۔ اس ایک خط سے آپ نیوز میں کام کرنے والے تقریبا چھے سو سے زائد ورکر بیروزگار ہو گئے۔ ملک ریاض صاحب کی مہربانی کہ انہوں نے کم از کم اس خط میں فارغ کیے جانے والے کارکنان کو بقایا جات ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کوئی ٹی وی چینل بند ہوا ہو اور صحافی بیروزگار ہوئے ہوں۔ اس سے پہلے 2018 میں نوائے وقت گروپ کا ٹی وی چینل وقت نیوز اور 2019 میں ایکسپریس گروپ کا انگریزی چینل بند ہوچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پچھلے چند سالوں میں تقریباً سارے بڑے اخباروں نے چھوٹے شہروں سے شائع ہونے والے اپنے ایڈیشن بند کر دیے ہیں۔

 

آپ نیوز کی جانب سے چینل بند کرنے کے نوٹس کی کاپی

ویسے تو پاکستانی میڈیا کی تاریخ ظلم وجبر کی داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ پچھلے دوسال پاکستان کے میڈیا اور صحافیوں کے لیے سب سے تاریک رہے تو زیادہ غلط نہ ہوگا۔ اخبارات اور ٹی وی چینل دیکھے اور ان دیکھے دباؤ اور جبر کا شکار رہے۔ کہیں اخبارات کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں، تو کہیں کیبل آپریٹرز کے ذریعے ٹی وی چینلز کوعوام کی نظروں سے اوجھل کیا گیا۔

لیکن جو چیز پچھلے دو سالوں میں خاص طور پر صحافیوں پر قہربن کر ٹوٹی وہ ان کا معاشی قتل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے دو سالوں میں تقریبا 8000 سے10000 میڈیا  کارکنان بےروزگار ہوئے ہیں۔  کوئی ایک پاکستانی میڈیا ھاؤس ایسا نہیں جس نے کارکنوں کو برطرف نہ کیا ہو یا ان کی تنخواہوں میں کٹوتیاں نہ کی ہوں۔ پاکستان میں ایک دو کے علاوہ شاید ہی کوئی ٹی وی یا اخبار ہو جہاں تنخواہ مہینے کے شروع میں ملتی ہو یا جہاں تین یا چار ماہ کی تنخواہ روکی نہ گئی ہو۔

 صحافیوں کے ان معاشی حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا سب کے پاس اپنا اپنا جواب ہے۔ میڈیا مالکان کہتے ہیں کہ حکومت سرکاری اشتہارات کی مد میں اسکے ذمہ واجب الاداء بقایا جات میڈیا اداروں کو منتقل نہیں کررہی اور نئے اشتہارات اس نے ویسے ہی بند کر دیے ہیں۔ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت کے ذمہ اشتہارات کی مد میں واجب الاداء رقم تقریبا چار ارب روپے ہے۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی  کا کہنا ہے کہ ان کے اشتہارات میں تقریبا ستر فیصد کی کمی آئی ہے۔ ان حالات میں ورکرز کو تنخواہیں کہاں سے دیں۔ کارکنان کی تعداد کم کئے بخیر گزارہ نہیں۔  دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا کام نہیں کہ وہ میڈیا کی اشتہارات کے ذریعے فنڈنگ کرتی رہے۔ سرکار کے مطابق اگر پچھلی حکومتیں ایسا کر رہی تھیں تو وہ غلط کر رہی تھیں۔ ۔ شاید اسی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت نے سال 2018 میں الیکٹرانک میڈیا کے لیے اشتہارات کے ریٹس میں بھی نمایاں کمی کی تھی۔

میڈیا مالکان بھی شاید جیسے کسی موقع کی تلاش میں تھے۔ جن ورکرز نے دن رات محنت کر کے اتنے بڑے بڑے چینل کھڑے کیے وہ ان ورکرز کا چار دن بھی بوجھ نہ اٹھا سکے۔

اس صورت حال کا دباؤ صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر آ رہا ہے۔

 

حکومت نے اشتہارات کی نئی ریٹ لسٹ جاری کی ہے

چلیں پہلے کوئی امید تو ہوتی تھی کہ تنخواہ کبھی نہ کبھی تو آ ہی جائے گی لیکن اب تو یہ امید بھی دم توڑ گئی ہے، یہ کہنا تھا ایک ایسے صحافی کا جسے ابھی ابھی اس کے چینل نے نوکری سے نکالا ہے۔ مجھے میڈیا میں  کام کرتے پندرہ سال ہوگئے اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ڈاؤن سائزنگ کے نام پر نوکری گئی لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ مجھے اب نوکری ملنے کی امید نہیں ہے۔ اتنے برے حالات پہلے کبھی نہیں تھے۔ بچوں کی فیسیں ہیں گھرکا کرایہ ہے کچن کا خرچہ ہے یہ تو نہیں رکے گا یہ تو ہر حال میں دینا ہے۔ ہاں دینا کہاں سے ہے یہ پتہ نہیں۔ کوئی اور کام آتا نہیں اوراب یہاں میرے لیے کوئی کام نہیں ہے۔

جو نکالے گئے سو نکالے گئے پر جو نوکری پر ہیں ان کا کون سا کوئی پراسان حال ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں نوکری کرنے والے لاکھوں میں کھیلتے ہیں۔ جب کہ یہاں لاکھوں کا قرضہ چڑھا ہوا ہے۔ پچھلے ایک سال میں آٹھ لاکھ کا قرضہ لیا ہے۔ گھر کا کرایہ دینا ہے۔ بچوں کی فیسیں ہیں، کچن کا خرچہ ہے۔ تنخواہ ملے نہ ملے اخراجات تو منہ پھاڑے کھڑے ہیں نا۔ یہ باتیں کسی عام میڈیا ورکر کی نہیں ہیں، یہ سب باتیں ایک بہت بڑے میڈیا ہاؤس کے سٹار رپورٹر کی ہیں جن کے کریڈٹ پر بے شمار خصوصی خبریں ہیں جنہیں صحافتی زبان میں ‘ایکسکلوزو’ کہتے ہیں۔ کبھی میڈیا میں چارم (دلکشی) تھی پیسے بھی تھے۔ اب تو نہ چارم رہا ہے نہ پیسے۔ تنخواہ کب آئی گئی یہ تک پتہ نہیں۔ اور نا کوئی بتانے کو تیار ہوتا ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ مہینے کی تنخواہ قسطوں میں ادا کی گئی۔ اب زندگی بھر کوئی اور کام کبھی کیا نہیں اور نہ ہی آتا ہے۔ کبھی جرنلزم عشق تھا رومانس تھا۔ پر بھوکے پیٹ کیسا عشق کیسا رومانس۔

اسی سال جنوری میں کیپٹل ٹی وی کے کیمرہ مین فیاض علی دل کا دورہ پڑنےکی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کو ادارے نے نو ماہ سے تنخواہ نہیں دی تھی۔ ان کے گھر والوں اور ساتھ کام کرنے والوں کے مطابق  تنخواہ کے نہ ملنے کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ ان حالات میں بھی وہ کام پر جاتے رہے اور یہی ان کی موت کی وجہ بنی۔ فیاض علی کی موت نے صحافیوں اور صحافی تنظیموں کو وقتی طور پر یکجا کر دیا اورایسا لگا کہ اس بار صحافی اپنے معاشی قتل کے خلاف محاذ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پورے ملک میں احتجاجی کیمپ لگے اور صحافیوں نے معاشی قتل کے خلاف آواز بلند کی لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ احتجاجی تحریک بھی دم توڑ گئی۔ اورپھرسےدھاک کے وہی تین پات۔ وہی نوکری سے نکالے جانا، وہی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر۔

ان احتجاجی دنوں میں صحافی اپنے احتجاج کواقتدار کے ایوانوں تک لے گئے تھے۔ صحافیوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا احتجاجاً بائیکاٹ کیا اور پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹوں نے صحافیوں کے مطالبہ پر نہ صرف مالکان بلکہ حکومتی عہدیداران کو بھی بار بار طلب کیا۔

ان قائمہ کمیٹی اجلاسوں میں صحافیوں اور ان کی تنظیموں کے عہدیداران نے کھل کے دل کی بھڑاس تو نکال لی لیکن بات عملی طور پر آگے نہ بڑھ سکی۔ ان اجلاسوں میں ہر وہ بات کہہ ڈالی گئی جو کہ عام حالات میں بہت سے صحافی کرنے سے کتراتے ہیں۔  ایسی ہی ایک میٹنگ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے افضل بٹ نے کہا کہ میڈیا کے خلاف آج یہ جو بھی ہو رھا ہے یہ سب دانستہ ہے۔ حکومت اور ریاست دونوں میڈیا کی تباہی کی ذمہ دار ہیں اور دنوں نے مل کر میڈیا کا گلا گھوٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

کیمرامین فییاز علی کے انتقال پر صحافی یونین کا کیپٹل ٹی وی انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کے حوالے سے شیئر کیا گیا ایک پوسٹر

کیا واقعی ایسا ہی ہے کہ حکومت اورریاست نے میڈیا کا گلا گھونٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ سینئر صحافی محمد ضیاءالدین بیشتر صحافیوں کیلئے استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کو پاکستانی صحافت میں کام کرتے ہوۓ ساٹھ سال بیت گئے ہیں اوراس دوران انہوں نے میڈیا کے مختلف ادوار کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ ضیاءالدین صاحب کے خیال میں میڈیا کے اس بحران کی ایک لمبی تاریخ ہے اورایسا نہیں ہے کہ پاکستان تحریک ٓنصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے آنے کے بعد ہی میڈیا کے حالات خراب ہونا شروع ہوئے ہیں۔ اس ساری خرابی میں پی ٹی آئی کی حکومت کا کوئی زیادہ ہاتھ نہیں ہے۔ ضیاءالدین صاحب  کا ماننا ہے کہ اصل میں یہ سارا کیا دھرا طاقتور حلقوں کا ہے۔ ان کے خیال میں میڈیا کے متعلق ڈان لیکس کے بعد ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے اپنے گھٹنوں پر لانا ہے اور یہ کام تب سے شروع ہے اور آج بھی جاری ہے۔ تب تو حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی تھی۔ ان کے خیال میں کیونکہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو اس لیے الزام زیادہ ان کو دیا جاتا ہے۔ ضیاءالدین صاحب  نے کہا کہ میڈیا کے لیے اس وقت حالات بہت زیادہ خطرناک ہیں، میڈیا بالکل دیوار کے ساتھ لگتا نظر آرہا ہے۔ اور آنے والے دنوں میں حالات اور بھی خراب ہوں گے۔

خیبر پختونخواہ پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں پاکستان نے دہشتگردی کی سب سے زیادہ قیمت ادا کی۔ اوراس قیمت میں وہاں کے صحافیوں کا خون بھی شامل ہے۔ بم دھماکوں کی کوریج ہو یا دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی رپورٹنگ، خیبر پختونخواہ کے صحافیوں نے اپنی جان پر کھیل کر اخباروں اور ٹی وی چینلز کے لیے کام کیا۔ لیکن بدقسمتی سے جیسے ہی ملکی حالات ذرا سنبھلے ہیں تو اس صوبے کے صحافیوں کو ایک اور چیلنج کا سامنا در پیش ہےاور وہ ہے نوکریوں سے ہاتھ دھونے کے بعد نئی نوکری کی تلاش۔

صفی اللہ گل خیبر پختونخواہ کے سینئر ترین صحافیوں میں سے ایک ہیں اور ان کے مطابق پچھلے دو سالوں میں صرف خیبر پختونخواہ میں بیروزگار ہونے والے صحافیوں کی تعداد 3500 سے زائد ہے۔ کبھی اخبارات اور ٹی وی چینل کو یہاں سے صحافیوں کی ضرورت تھی۔ افغانستان کی جنگ تھی۔ فاٹا میں فوج کے آپریشنز ہو رہے تھے اور دہشتگردی بھی عروج پر تھی۔ ان حالات میں ہر اخبار اور ٹی وی چینلز کو ضرورت تھی۔ اب افغانستان کی جنگ میں دلچسپی نہیں اور اپنے ہاں اللہ کے فضل سے اس طرح دہشتگردی نہیں رہی۔ اسی وجہ سے بڑے بڑے اخبارات نے پشاور سے اپنے ایڈیشن اور ٹی وی چینلز نے بیورو آفس بند کر دیے ہیں۔

صفی اللہ گل حال ہی میں بند ہونے والے چینل آپ نیوز کے پشاور میں بیوروچیف ہیں اور ان کے مطابق صرف آپ نیوز کے بند ہونے سے پورے خیبر پختونخواہ سے تقریبا 65 کے قریب صحافی بیروزگار ہوں گے۔ ٹیکنکل سٹاف اس کے علاوہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور میں اس وقت کسی ٹی وی چینل کے بیورو میں تین سے زیادہ رپورٹرنہیں ہیں۔ اور جو نوکریوں سے فارغ ہو رہے ہیں ان کے لیے کہیں اور نوکری حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ان حالات میں کچھ صحافیوں نے ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز استعمال کر کے اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش شروع کی ہے۔ اپنے یو ٹیوب چینلز شروع کئے ہیں لیکن ان کو کھڑا کرنے میں وقت لگے گا۔ اور دوسرا اگر حکومت ان کے متعلق اپنی قانون سازی کی کوششوں میں کامیاب ہو گئی تو پھر سے ایک مشکل ان صحافیوں کے سامنے ہو گی کیونکہ حکومت تو ان یو ٹیوب چینلز کو لانچ کرنے کے لیے بھاری فیسوں کے عوض لائسنس دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور پہلے سے بیروزگار صحافی اس کے پیسے کہاں سے لائے گا؟ یہاں بھی پیسے والے ہی راج کریں گے۔ میڈیا کے سیٹھ ہی یو ٹیوب چینلز کے لائسنس لیں گے اور ورکرز دھکے کھاتا رہے گا۔

 

جولائی 2019 میں پی ایف یو جے کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں اور سنسرشپ کے خلاف کیے جانے والے ایک مظاہرے کا منظر

ویسے تو سارے پاکستان سے ہی صحافی بیروزگار ہوئے ہیں چاہے وہ بڑے شہر ہوں یا چھوٹے لیکن چھوٹے شہروں میں جہاں پہلے ہی صحافیوں کے لیے نوکریوں کے مواقع کم تھے اب تو بالکل ہی ختم ہو کررہ گئے ہیں۔ فیصل آبا د کی ہی مثال لے لیں۔ یہاں سے روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس، اور روزنامہ دنیا  کے آفس مکمل بند کر دیے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایکسپریس نیوز، ہم نیوز، بول نیوز اور ڈان نیوز نے اپنے اپنے چینلز کے بیوروآفس بھی مکمل بند کر دیے ہیں۔

عبداللہ بھی فیصل آباد کے ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کی اس میڈیا بحران میں نوکری چلی گئی۔ ان کے بقول گزشتہ چند سالوں میں فیصل آباد بڑا میڈیا سنٹر بن گیا تھا۔ پڑھے لکھے نوجوان اچھی تنخواہوں پر کام کر رہے تھے لیکن اب حالات یکسر بدل گئے ہیں اور سب کچھ پندرہ سال پہلے والے سیٹ اپ پر چلا گیا ہے۔ ان کے مطابق پچھلے کچھ عرصے میں فیصل آباد میں 200 سے زائد میڈیا ورکرز اپنی نوکریوں سے ہا تھ دھو چکے ہیں۔ اور جو نوکری پر رہ گئے ہیں ان کو یہ معلوم نہیں کہ تنخواہ کب آئے گی۔ عبداللہ ان دنوں اپنی ایک نیوز ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ تو نوکری کی تلاش کرتا رہا پر کہیں بھی جگہ ہی نہیں تھی۔ ہر جگہ سے لوگ نکالے جا رہے تھے تو نوکری کہاں ملتی اس لیے سوچا کہ ڈیجیٹل سیٹ ایپ لانچ کیا جائے۔ اس لیے اپنی ایک ویب سائٹ بنائی ہے اور اسی پر محنت کر رہے ہیں لیکن ابھی کوئی اتنا خاص رسپانس نہیں ہے۔ بعض دفعہ تو سخت مایوسی بھی ہوتی ہے کہ صحافی بننے سے اچھا تھا کوئی ریڑھی ہی لگا لیتے، کم وبیش یہی صورتحال باقی چھوٹے سٹیشنز کی ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے میڈیا کا بزنس ماڈل ہی ٹھیک نہیں تھا اور کبھی نہ کبھی یہ دن آنے ہی تھے۔ صفی اللہ گل اس بات سے کسی حد تک اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں جس طرح پاکستان میں دھڑا دھڑ چینل لانچ ہو رہے تھے اورجتنی زیادہ تنخواہوں پر لوگوں کو نوکریاں دی جا رہی تھیں آخر تو یہ ہونا ہی تھا۔ آپ کب تک اشتہاروں کے پیسوں سے چینل چلا سکتے تھے۔ دوسرا، سیٹھوں کے میڈیا چینل ہیں اب وہ اپنا منافع دیکھیں گے یا کارکن کا خیال کریں گے۔ دوسری طرف محمد ضیاءالدین سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے مین سٹریم میڈیا کو اچھا خاصا بزنس چیلنج دیا ہے۔ اشتہارات کا بڑا حصہ اب سوشل میڈیا کی طرف جا رہا ہے ایسے میں دباؤ تو آنا ہی تھا اور اس کے لیے نہ ہی ادارے اور نہ ہی صحافی تیار تھے۔ رہی سہی کسر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ نے نکال دی ہے۔

ایسے میں ایک سوال ساری صحافتی برادری کے ذہن میں ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں میڈیا اور صحافیوں کے معاشی حالات بہتر ہوں گے؟ بدقسمتی سے ضیاءالدین صاحب اور صفی اللہ گل کے مطابق ایسا نہیں لگتا کہ حالات میں بہتری آئے گی۔

ضیاءالدین صاحب کے خیال میں آنے والے دن پاکستانی صحافیوں کے لیے اور زیادہ سخت اور خطرناک ہوں گے۔ عالمی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے ہل کر رہ گئی ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے۔ پاکستانی ریاست اور حکومت پہلے ہی میڈیا کے درپے ہے۔ حکومتی اشتہارات پر کٹوتیاں لگائی گئی ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر اب اپنے حالات کی وجہ سے یہ کٹوتیاں لگانے پر مجبور ہو گا۔ ایسے میں آپ حالات کے بہتر ہونے کی امید تو چھوڑ دیں۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment