September 19, 2018

کیمبرج انیلیٹیکاکا معمہ کیا ہے؟

ہم جب بازار سے کوئی بھی چیزخریدنے جاتے ہیں تو اس کے لیے ہمارےپاس  پیسے ہونا ضروری ہیں . اگر کوئی ہمیں مفت کچھ دے تو ہمارےزہن میں یہ  خیال آتاہے کے کہیں یے چیز غیر معیاری یا زائد المیعاد تو نہیں؟  ہم اپنے موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر ہم روز فیس بک استعمال کرتے ہیں اور اس کے کوئی پیسےادا نہیں کرتے ، شاید بہت سے استعمالکرنے والے یہ سمجھنےسےقاصر  ہیں کے جب ہم کوئی چیز بنا خریدے استعمال کرتے ہیں تو اصل میں ہم پیسوں کی جگہ خداپنی قیمت لگوا رہے ہوتے ہیں. ایک وقت تھا جب لوگوں کی ذاتی معلومات انکے قریبی جاننے والوں تک محدود ہوتی تھی ، مگر آج یہ وقت آگیا ہے کہ لوگ اپبے بارے میں سب کچھ فیس بک کے  دنیا کو بتاتے ہیں.امریکی صدارتی انتخانات کے بعد سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ فیس بک نے ٹرمپ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے ، مگر اس وقت کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیسے ممکن ہے. چند روز پہلے ایک 27 سالہ شخص کرسٹوفر ویل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ٹرمپ کی جیت میں اہم کردار کیمبرج انلیٹیکا نامی ایک کمپنی نے ادا کیا، جس نے 5 کروڑ سے زائد لوگوں کا فیس بک ڈیٹا حاصل کر کے اس ڈیٹا کو انتخابی مہم میں استعمال کیا. کرسٹوفر ویل خد کیمبرج انلیٹیکا نامی کمپنی کے لئے کام کرتا تھا، یہ اسی کا آئیڈیا تھا کے اگر لوگوں کی ذاتی    معلومات مل جائے تو وہ اس کا کسی بھی اشتہاری مہم کے لئے استعمال کر سکتا ہے

کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کوگن جس نے ایک ایپ بنائی، بظاہر عام  سی ایپ فیس بک پر متعارف کروائی گئی، یہ واضح رہے کہ کیمبرج ونیورسٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے. یہ ایسی ہی ایک ایپ تھی جیسے فیس بک میں ہم مختلف ایپ دیکھتے ہیں جیسا کہ آپ کی شکل بیس سال بعد کسی ہوگی. جیسے ہم اپنی شکل دیکھنے کے تجسس میں اس ایپ کا استعمال کرتے ہیں ویسے ہی تقریبا دو لاکھ ستر ہزار لوگوں نے اس ایپ کا استعمال کرتے ہوے  پوچھے گئے سوالوں کے جواب دے دیے اور ان لوگوں اور ان کے دوستوں کی ذاتی معلومات اکٹھی کر کے کیمبرج انلیٹیکا کو فراہم کر دی. جیسے ہم پلےسٹورسے جب کبھی کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو اس میں ہم سےکچھ اجازت مانگی جاتی ہے جیسا کہ ہمارے کیمرہ، تصویرں اور فون نمبرز وغیرہ، بلکل اسی ہی طرح یہ ایپ بھی اصل میں آپ کی اور آپ کے دوستوں کی معلومات اکھٹی کر رہی تھی. اس ڈیٹا سے ان کو پتا چلا کہ کون کیا کرتا ہے، کہاں رہتا ہے، کس سیاسی جماعت سے اس کا تعلق ہے، کن مسائل پر زیادہ بات ہو رہی ہے وغیرہ. اس تمام ڈیٹا کی مدد سے ان کو اس بات کا کافی حد تک ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو گیا کہ کس کو کس اشتہاری مہم میں شامل کیا جائے جیسا کہ جو لوگ امریکی انتخابات میں اس  بات کی حمایت کر رہے تہے کے غیر ملکیوں کو امریکا میں نہیں آنے دینا چا ہیے ان کو ایسے اشتہارات بھیجے جائیں جس میں باہرسے آنے والوں کے نقصانات بتائے جائیں یا جو مسلم ممالک سے آنے والوں پر پابندی کے حق میں ہیں تو ان کو ایسے اشتہارات بھیجے جائیں جس میں یہ بتایا جائے کے صرف ٹرمپ ہی مسلم ممالک سے آنے والوں کو روک سکتا ہے، اس لئے ٹرمپ کو ووٹ دیں.  اس طرح اس ایپ کی مدد سے 5 کروڑسے زائد صارفین کا ڈیٹا چوری کر کے ان کو مبینہ طور پر 2016 کے امریکی انتخابات میں استعمال کیا گیا. 2 ماہرین کا کہنا  کہ اس طرح کی اشتہاری مہم سے ٹرمپ صدارتی انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو گیا. کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کے  کیمبرج انلیٹیکا نامی کمپنی نہ صرف امریکی صدارتی  انتخابات پر اثر انداز ہوئی بلکہ بریکگزٹ میں بھی اسی طرح ڈیٹا چوری کر کہ اشتہاری مہم کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں برطانیہ کو یورپی یونین سےعلیحدہ ہونا پڑا . یہاں یہ بات اہم ہے کے ایسی ایپ نے  نہ صرف ان لوگوں کی معلومات استعمال کی جنہوں نے خود یہ ایپ استعمال کی تھی بلکہ فیس بک کے بنیادی ڈھانچے  میں موجود خامیوں کی وجھ سے ایپ استعمال کرنے والوں کے دوستوں کی معلومات بھی با آسانی حاصل ہو گئی. ہر عام و خاص آدمی جو فیس بک استعمال کرتا ہے اس کو اپنی کم سے کم ذاتی نوعیت کی معلومات دینے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے اور خاص طور پر فیس بک کی سیٹنگس میں جا کر اپنی پرائیویسی کو اکثر اپ ڈیٹ کیا کریں، کسی  بھی ایپ کو استعمال کرنے سے پہلے اس بات کی تسلی کر لیں کے آپ کسی ایپ کے بدلے اپنی کون کون سے معلومات فراہم کرنے کے لیے رضا مند ہیں.

Written by

Zafar Nizamani is a Project lead at Media Matters for Democracy

No comments

leave a comment