May 30, 2020

کرونا وائرس نہ شیعہ ہے نہ تبلیغی

Photo by T Foz on Unsplash

پوری دنیا اس وقت کرونا وائرس کے جھنجال میں پھنسی ہوئی ہے اور ہر طرف لاک ڈاؤن کی صورتحال چل رہی ہے۔ کرونا کے خلاف جنگ میں جہاں ساری دنیا رنگ نسل اور مذہب کی تفریق سے بالا ہو کر اس کے خلاف برسرپیکار نظرآرہی ہے تو پاکستان میں آپ کو ایک الگ ہی تصویر نظر آئے گی۔پاکستان میں اس کرونا وائرس کے دنوں میں  مسلکی بنیادوں پر تقسیم ایک بار پھر واضح دکھائی دے رہی ہےاور سوشل میڈیا میں آپ اس کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو کہیں ایران سے واپس آنے والے شیعہ زائرین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے تو کہیں رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کے ساتھ اور اسے شیعہ ،سنی دیوبندی وائرس ثابت کرنے کی ان تھک کوشش ہو رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے ۷۸ فیصد کیسسزکے تانے بانے ایران سے آنے والے زائرین سے ملتے ہیں۔تو حالیہ کچھ دنوں میں رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کے باعث اس وائرس کے پھیلاؤ کی کہانیاں بھی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اس وائرس سے نمٹنے کے لیے ابتدائی پالیسیاں بہت ناقص رہیں اور ان سے صورتحال کا اندازہ لگانے میں ناکامی ہوئی جس کی وجہ سے حالات بگڑے اور آگے اور بگڑنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت اور بلوچستان کی صوبائی حکومت ان زائرین کے لیے تفتان بارڈر پر قرنطینہ کی وہ سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہیں جن کے حالات متقاضی تھے۔ زلفی بخاری وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز ہیں اور پچھلے کچھ دنوں سے ان کے نام سے ٹوئیٹر پر ٹرینڈز چل رہے ہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ذمہ دار وہ ہیں کیونکہ انہوں نے شیعہ زائرین کی ایران سے پاکستان میں داخلے میں اس وقت معاونت کی جب ایران میں اس وائرس نے پوری طرح پنجے گاڑ لیے تھے ۔ حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان واپس آنے والے زائرین کی وجہ سے پاکستان میں بھی کرونا وائرس پھیلا۔ اور اس وجہ سے زلفی بخاری کے خلاف ،زلفی بخاری قوم کا مجرم، کا ٹرینڈ ٹوئیٹر پر چل رہا ہے۔ جس میں ان کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے۔اور ان کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہےحالانکہ ایران سے آنے والے تمام زائرین پاکستانی ہیں اور انہوں نے جلد یا بدیر پاکستان واپس آنا ہی تھا اور ان کو ایران میں بھی ان افواہوں کے بعد مشکلات کا سامنا تھا کہ یہ وائرس ایران میں پاکستان سے آیا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت ان آنے والے زائرین کی سکریننگ اور قرنطینہ کے حوالے سے مناسب بندوبست کرنے میں ناکام رہی۔اگر ان زائرین کی وہاں باقاعدہ سکریننگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے اچھے انتظامات کئے جاتے تو حالات بہت مختلف ہوتے۔

دوسری طرف رائیونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع اور اس کی وجہ سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی کہانیاں بھی حکومتی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ساری دنیا کے ہر قسم کے اجتماعات کرونا وائرس کی وجہ سے منسوخ یا ملتوی ہوئے اور ایسے موقع پر حکومت پنجاب کی اس اجتماع کی اجازت وہ مجرمانہ غفلت تھی جس کا خمیازہ جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس اجتماع کے منتظمین سے اجتماع کو ختم کرنے کی درخواست تب کی جب پچیس ہزار کے قریب لوگ اس کے لیے جمع ہو گئے۔اس وقت پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کرونا کے کیسسز تبلیغی جماعت کے لوگوں میں پازیٹو آ رہے ہیں۔ سندھ حکومت اس وقت پورے سندھ میں موجود تبلیغی جماعت کے لوگوں کی وجہ سے اس وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کو پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹہرا کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اس کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی تگ ودو میں ہے اس میں مسلکی تفرقہ کے وائرس کا سر اٹھانا کسی بھی طرح پاکستان اور اس کے عوام کے حق میں نہیں۔ یاد رکھیں کرونا نہ تو شیعہ وائرس ہے اور نہ ہی سنی یا دیوبندی۔ اور یہ وائرس اپنے شکار کے متعلق یہ بھی نہیں دیکھتا ہے وہ شیعہ ہے یا سنی ۔ اس لئے خدارا سوشل میڈیا پر ان جھگڑوں سے اجتناب برتیں۔ ایران سے واپس آنے والے زائرین پاکستانی ہیں اور انہوں نے واپس آنا ہی تھا ۔اسی طرح تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے بھی پاکستانی ہیں۔

ایران سے آنے والے زائرین ہوں یا تبلیغی اجتماع کے شرکاء، کرونا وائرس کے دنوں میں ان سے متعلق پالیسی بنانے کا کردار حکومت وقت کا تھا اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ حکومت اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ اب اس سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کی مدد کریں ۔ ناکہ ایک دوسرے پر مسلکی بنیادوں پر الزامات کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیں۔ یہ ایک بہت کٹھن اور مشکل وقت ہے، ان شیعہ زائرین اور تبلیغی جماعت والوں سے بھی دست بدستا گزارش ہے کہ حکومتی ہدایات پر عمل کر لیں، یہی ان کے اور پاکستان کے حق میں ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے سوشل میڈیا کا نفرت انگیز بیانات کے لئے استعمال کوئی نئی بات نہیں اور ماضی میں بھی اور مذہبی اور مسلکی نفرتوں کے ابھار کے لیے اس کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن کرونا کے دنوں میں جب مذہبی اور مسلکی اختلافات بھلا کر اتحادویگانگت کے مظاہرے کی ضرورت تھی اس وقت سوشل میڈیا پراس طرح کی نفرت انگیزی ناصرف افسوسناک ہے بلکہ وہ لمحہ فکریہ بھی ہے جس نے معاشرے کی مسلکی تقسیم کو اور واضح کر دیا ہے۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment