December 7, 2019

‘کب مولانا جائیں گے، کب انڑنیٹ آئے گا؟’

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور دھرنا اسلام آباد کی کشمیر ھائی وے پر دوسرے ہفتے میں بھی جاری ہے۔ یہ مارچ پلس دھرنا کب ختم ہو گا؟ اس سوال کا جواب اب تک کسی کے پاس نہیں۔ ۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان مزاکرات بھی تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور مولانا بھی استعفی سے کم کسی بات پر آمادہ نہیں۔

مولانا کا مارچ پلس دھرنا اسلام آباد کے شہر یوں کے لیے مجموئی طور پر اس طرح کی مشکلات کا باعث نہیں بنا جس طرح کی مشکلات کا سامنا ان کو پچھلے دھرنوں میں رھا۔ مولانا کا مارچ پرامن رھا ہے۔ ان کے کارکنان لاٹھیاں لیکر چیک پوسٹس بناتے نظر نہیں آےٌ۔ اور کار سرکار میں بھی کوئی مداخلت کرتے نہیں پائے گئے۔

لیکن دھرنے کی جگہ کے اردگرد رھائشی دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سےبالکل بھی خوش نہیں۔ کیونکہ جب سے مولانا آئے ہیں حکومت نے ان کا انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے۔ اسلام آباد میں جس جگہ مولانا کے متوالے بیٹھے ہیں اس کے اردگرد کے علاقوں میں انٹرنیٹ کہیں مکمل اور کہیں جزوی طور پر بند ہے۔ ان علاقوں میں سیکٹر جی ایٹ، جی نائن، ایچ نائن، اور ان کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں۔

محمد عبداللہ جی نائن پشاور موڑ کے رھائشی ہیں اور انٹرنیٹ کی بندش کو لیکر بہت غصے میں ہیں۔
‘ آپ بتائیں کیا آج کے دور میں آپ انٹرنیٹ کی بندش افورڈ کر سکتے ہیں۔ میری زیادہ فیملی بیرون ملک ہے اور جب سے انٹرنیٹ بند ہوا ہے ان سے رابطہ کرنے کے لیے دوسرے سیکٹرز جاتا ہوں۔ کیسی عجیب بات ہے۔ آپ کو مولانا سے نمبٹنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ملا تو سب سے آسان ہے آپ انٹرنیٹ بند کر دیں۔ اس سے مارچ والوں کو کیا فرق پڑے گا؟ آپ ہی بتا دیں مجھے جو فرق پڑ رھا ہے میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش سے طالب علم بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

خبیب حسن جی ایٹ کے رھائشی ہیں اور آج کل اپنے بی ایس کے امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کی تیاری کیسی چل رہی ہے کے سوال پر ان کا کہنا تھا ۔ خاک تیاری چل رہی ہے انٹرنیٹ کے بغیر آپ کیسے تیاری کر سکتے ہیں؟ آج کل آپ کا سارا کام ساری پڑھائی انڑنیٹ کے ساتھ منسلک ہے۔ یقین کریں کسی دوسرے سیکڑ جا کر گاڑی میں بیٹھ کر تیاری کر رھا ہوں۔ گھر والے بھی شک کرتے رہتے ہیں کہ پتا نہیں کہا ں موج کر رہا ہوں۔

مولانا کے مارچ کی کوریج میں مصروف صحافی بھی انڑنیٹ کی بندش کی شکایت کرتے ںظر آتے ہیں۔ شازیہ نیرٔ رپورٹر ہیں اور آج کل پبلک نیوز کے ساتھ منسلک ہیں۔ اور وہ رہتی بھی جی ایٹ میں ہی ہیں۔ جہاں ویسے ہی انڑنیٹ بند ہے۔ ان کے بقول سارے کام کا ہرج ہو رہا ہے ۔ انڑنیٹ نہ ہونے سے مجھے میری اسائنمنٹ کا نہیں پتا تو دفتر والوں کو میرے بیھجے ٹکرز نہیں مل رہے۔ بندہ کرے تو کیا کرے۔ نہ ہی مولانا واپس جا رہے ہیں اور نہ ہی انڑنیٹ کے واپس آنے کے کوئی امکانات نظر آ رہے ہیں۔

سیئنر صحافی اور اینکر پرسن تنزیلہ مظہر کے مطابق انڑنیٹ کی بںدش سے ان کے لیے اپنا کام کرنا نا ممکن ہو گیا ہے۔ انفارمیشن ہی آپ کا کام ہے آپ کی رسائی ہی نہیں انفارمیشن تک تو کون سا کام کہاں کا کام۔ گورنمنٹ کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کب تک چلے گا۔ اگر مولانا ایک سال بیٹھیں گے تو کیا ایک سال انڑنیٹ بند رکھیں گے کیا؟

اسلام آباد ھائی کورٹ کے فروری ۲۰۱۸ کے ایک فیصلہ کے مطابق انڑنیٹ تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی جانب سے انڑنیٹ کی بندش غیر قانونی دے دی گئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سےحکومت پہلے اس فیصلہ کے خلاف انڑاکورٹ اپیل میں چلی گئی اور اب یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے۔ اس کیس کی سماعت کب ہو گی یہ بھی ایسا ہی سوال ہے کہ مولانا کب واپس جائیں گے اور کشمیر ھائی وے کے اردگرد انڑنیٹ کب بحال ہوگا؟

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment