January 26, 2020

فیس بک نے ریڈیو پاکستان کا خبرنامہ کیوں بلاک کيا؟

Originally posted in: DW.com

ریڈیو پاکستان کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان نے فی الحال اپنے نیوز بلیٹن کو یو ٹیوب پر نشر کرنا شروع کر ديا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے وہ اسکرین شاٹس بھی جاری کیے ہیں، جن میں انہیں ماضی میں فیس بک کی طرف سےکچھ مضامین کے شائع کرنے پر خبردار کیا گیا تھا۔ یہ مضامین کشمیری علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ برہان وانی کے بارے میں تھے۔

کیا فیس بک کا یہ اقدام سیاسی ہے؟ اور کیا فیس بک کے پاس ایسا کرنے کا اختيار ہے؟ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈیجیٹل رائٹس اور سائبر سکیورٹی کے ماہر اسامہ خلجی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” فیس بک ایک امریکی کمپنی ہے، اس لیے اس پر امریکی قوانین کا ادراک ہوتا ہے۔ امریکا نے حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ لہٰذا جب کسی پوسٹ میں اس تنظیم یا اس کے رہنماؤں کا ذکر ہوتا ہے، تو فیس بک پر اسے بلاک کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے ریڈیو پاکستان کی خبروں کی لائیو اسٹریمنگ کو بلاک کیا گیا۔‘‘

اسامہ کی رائے میں فیس بک کی جانب سے يہ قدم ايک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ امریکا میں اظہار رائے کے حق پر کافی زور ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”  کشمیر میں بھارت کی سرگرمیوں کو رپورٹ کیا جانا چاہیے، یہ وہی معاملہ ہے کہ کسی ایک لیے جو دہشت گرد ہے، وہ کسی اور کے لیے حریت پسند ہے۔‘‘

یہ پہلی مرتبہ نہيں ہے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق فیس بک نے مواد کو بلاک کیا ہو۔ اسی موضوع پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ‘میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کی شریک بانی صدف بیگ کا کہنا تھا، ” فیس بک کا یہ اقدام اس تنظیم کے اظہار رائے سے متعلق رويے پر سوال اٹھاتا ہے۔ فیس بک دعویٰ کرتا ہے وہ آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے لیکن اس کے کئی فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ وہ معتصبانہ رویہ اختیار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت فیس بک کے لیے ایک بڑی منڈی ہے۔‘‘

صدف کہتی ہیں کہ حکومتوں اور سماجی کارکنان کو چاہیے کہ وہ فیس بک سے شفافیت کا مطالبہ جاری رکھیں لیکن بدقسمتی سے فیس بک سے سوال کرنے کے بجائے پاکستان جیسے ملک کی حکومتیں اس تنظیم کی پالیسیوں کو قبول کر لیتی ہیں کیوں کہ زیادہ شفافیت خود انہی حکومتوں کے لیے بھی مشکل پیدا کر دیتی ہے۔ صدف کا کہنا ہے، ” اگر کشمیر پر رپورٹنگ سے متعلق فیس بک پر معنی خیز دباؤ ڈالنا ہے، تو حکومت کو اس تنظیم سے شفافیت کا زور دار مطالبہ کرنا ہوگا۔‘‘

No comments

leave a comment