April 3, 2020

سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا”: حکومت کی روکنے کی تیاری”

سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب صدیقی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ٓاگاہ کیا ہے کہ ان کی وزارت سوشل میڈیا کے رولز تیار کررہی ہے جسے “آن لائن ہارم ٹو پرسن “کا نام دیا گیا ہے۔ ان رولز سے جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کی گرفت ممکن ہوجائے گی۔ کمیٹی کو بریفننگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رولز کی تیاری کے بعد کابینہ سے منظوری لی جائے گی اور اگر آن لائن ہارم رولز پاس ہوگئے تو عام آدمی کو بھی تحفظ ملے گا۔


پپیلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ کااس موقع پر کہنا تھا کہ میڈیا پر جعل سازی سنجیدہ معاملہ ہے ،اس پر فوری فیصلے کی ضرورت ہے۔ نفیسہ شاہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی کہ وہ بی آئی ایس پی بینفشری ہیں۔ تین دن بعد بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن نے خود ٹویٹ کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ۔ ن لیگ کی عظمی بخاری ،مائزہ حمید اور دیگر خواتین کو بھی سوشل میڈیا پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔


کمیٹی میٹنگ میں ٹویئٹر اور فیس بک کے ساتھ باہمی تعاون اور قانونی معاہدے کے امور کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ کی عدم شرکت پر ارکان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی اجلاس میں شرکت کےلئے خط بھجوایا تھا تاہم وزارت داخلہ سے جواب نہیں ملا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹویئٹر اور فیکس بک پر جعلی آئی ڈیز کی روک تھام کا طریقہ کار اور قانونی معاونت کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سلسلے میں گائیڈ لائین کےلئے وزارت داخلہ کو لکھا لیکن جواب تک نہیں ملا ۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment