July 13, 2020

سوشل میڈیا رولز بہت اچھے ہیں ان کو مزید ٹائٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ سینٹر فیصل جاوید

اسلام آباد، ۲۵ جنوری ۲۰۲۰۔ وفاقی کابینہ کے پاس کردہ سوشل میڈیا کے متعلق رولز بہت اچھے ہیں مگر ان کو مزید ٹائٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتی سینٹر فیصل جاوید نے یہ بیان سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رولز میں خاندان کے تحفظ، ذاتی دیڈیوز، نا زیبا مواد اور ہتک عزت کے حوالے سے مزید اقدامات کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا واحد ایجنڈا سیکریٹری آئی ٹی سے اس بات کی وضاحت لینا تھا کہ کمیٹی کی واضح ہدایات کے باوجود، رولز کو منظوری سے قبل کمیٹی کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا۔


چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے اجلاس کے آغاز کرتے ہوئے پچیش نومبر اور گیارہ جنوری کو ہونے والے میٹنگس کا حوالہ دے کر استتفسار کیا کہ کمیٹی نے واضح طور پر یہ ہدایات جاری کیں تھی کہ پیکا کے تحٹ بننے والے رولز کو پیلے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہیمارا مقصد صرف یہ تھا کہ رولز میں بہتری کے لئے تجواویز دی جا سکیں۔ اور اس مقصد سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو متعدد بار کہا گیا کہ رولز پاسں کروانے سے پہلے کمیٹی میں لائے جائیں۔ لیکن وزارت نے یہ رولز کمیٹی اور پارلیمنٹ سے بالا بالا کابینہ سے منظور کروا لیے۔


سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ  ہم معزز ایوان کو بائی پاس کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے،اور ایوان کی عزت ہمارے لیے سب سے مقدم ہے اور وہ اس سوال کا جواب تحریری طور پر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ رولز بنانے کا ایک طریقہ کار ہے اور ان کی وزارت نے آئین یا قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اوراسں طریقہ کو اختیار کر کے یہ رولز بنائے ہیں۔
سیکرٹری آئی ٹی نے کمیٹی میٹنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم نےان قوانین پر عملد در آمد کیلئے تمام شراکت داروں سےکھلی مشاورت کی ہدایت بھی کی ہے ۔ شعیب صدیقی کا کہنا تھا کہ ان رولز کا مقصد سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں ریگولیٹ کرنا ہے ۔

اس موقع پر سینٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے پاس کردہ سوشل میڈیا کے متعلق رولز بہت اچھے ہیں اور ان کو مزید ٹائٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان  فیک نیوز روکنے میں ناکام رہاہےاور یہ رولز اس سلسلے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ پوری دنیا میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ وہاں تو کسی نے اسں ریگولیشن کو آزادیٔ اظہار رائے پر قدغن قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کو سوشل میڈیا پر کھلی چھوٹ ہے، ان سےمعاشرے کو بچانے کےلئے یہ قوانین مزید سخت بنائے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے بغیر پڑھے اور بغیر سمجھے ان رولز پر بلاوجہ تنقید کی ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت  یوٹیوب چینلز بند نہیں کرنا چاہتی بلکہ سب لوگوں کو یوٹیوب چینل بنانے چاہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو بلاگرز پاکستان کے باری میں مثبت تاثر پیدا کرتے ہیں، انہیں حکومت کو انہیں مالی فوائد دینے چاہیں ،اسں موقع پر چیئرپرسن روبینہ خالد نے کہا کہ کیا آپ جھوٹی تعریفیں کرنے والوں کو فائدہ دینے کی بات کررہے ئیں؟  اسں کے جواب میں سینتر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر زیادہ تر پاکستان کے متعلق منفی خبریں پھیلانے کا رواج بڑھ رھا ہے اور حکومت کو ان لوگوں کی ضرور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو پاکستان کے متعلق مثبت خبریں دے رہے ہیں۔


کمیٹی اجلاس میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی ر سینٹروسیم شہزاد نے ان رولز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کہ ڈنڈے سے چیزیں آگے نہیں بڑھتیں  ضیا دور میں وی سی آر کو برقعے پہنائے گئے نتیجہ کچھ نہیں نکلا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کامیابی میں سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے اور ان سوشل میڈیا رولز پر عملد درآمد ایک چیلنج ہے ۔ حکومتی سینٹر وسیم شہزاد نے سوال کیا کہ ماضی میں یو ٹیوب بند ہوچکا کیا اب فیس بک بھی بند ہوگا ؟؟ انہوں نے سیکرٹری آئی ٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نیشنل کو آرڈینیٹر کو بہت زیادہ اختیارات دیدیےہیں۔


 سنیٹر فدا محمد کا سیکرٹری آئی ٹی سے مکالمہ ہوا کہ جب رولز بن گے ہیں  تو وہ  کمیٹی میں بریفنگ دینے
سے کیوں  گریزاں ہیں ؟ سیکریٹری آئی ٹی کا کہنا تھا کہ رولز پر عملدرآمد کے حوالے سے خدشات نہیں ہونے چاہئیں اور اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوا تو تب ہی دیکھا جائے گا۔ ان رولز کی عملدرآمد کے حوالے سے مشاورت کے لیے میکنزم پر ان کی وزارت کام کر رہی ہے۔


چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے  ہدایت کی نئے سوشل میڈیا رولز کےحوالے سے تفصیلی بریفنگ آئندہ اجلاس میں دی جائے۔

Latest comment

  • Framing of Rules is a statutory requirement under law. Government did the right thing by framing Protection Against Online Harm Rules. Globally there is increased emphasis on having regulatory mechanism to curb misuse of social media. These Rules by no means are an attempt to curb freedom of expression. Undue concerns should be addressed through consultation process initiated by Govt.

leave a comment