October 16, 2019

بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس

Image courtesy: Daily Times

قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس بلاول بھٹو کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔

ڈی جی ایف آئی اے مجیب الرحمان نے صحافی شاہ زیب جیلانی کیس پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ۔ہوئے بتایا کہ شاہ زیب جیلانی کے حوالے سے مولوی اقبال حیدر نے درخواست دی تھی

ایف ای اے نے درخواست کا جائزہ لیتے ھوئے شاہ زیب جیلانی کی بھی تحقیقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ الزامات ثابت نہ ہونے پر ایف آئی اے نے یہ معاملہ عدالت کو بھجوا دیا تھا اور عدالت نے بھی سماعت کے بعد یہ درخواست مسترد کر دی
بلاول بھٹو کا کمیٹی اجلاس میں کہنا تھا کہ قانون کے تحت سائبر بل سے متعلق رپورٹ ہر چھے ماہ بعد پارلیمان میں جمع کروانی ہوتی ہے لیکن ایف آئی اے نے آج تک پیکا کے متعلق کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی

ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے معاملے ہم دوسرے ممالک پر زور دے رہے ہیں جبکہ اپنے ہاں سیاستدانوں، صحافیوں، سماجی کارکنوں کو ہراساں کرنے کی بات ہو تو ایف آئی اے فوراٌ حرکت میں آجاتی ہے ۔ فیصل رضا عابدی کو سائبر کرائم قانون کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ سنیئر صحافیوں کوجمال خشوگی کی تصاویر لگانے پرایف آئی اے نے نوٹسسز جاری کیے

لاول بھٹو نے کہا کہ اس قسم کی کارروایوں سے عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمیں الیکٹرانک کرائم کے قوانین کو حقوق سلب کرنے کے بجائے حقوق کوتحفظ دینے والے قوانین بنانا ہے۔

اراکین اسمبلی مہرین رزاق بھٹو ،شازیہ مری، سیف الرحمان اور کشور زہرا، شائستہ پرویز، زیب جعفر اور عبالرحمان کانجو نے اجلاس میں شرکت کی۔

کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہرانسان کو آزادی اظہار کا حق ہے،میڈیا کے اداروں میں ڈاؤن سائزنگ کروائی گئی،مختلف بیٹ کے رپورٹرز اور اینکرز نوکری سے نکالے گئے، میڈیا کی ڈاؤن سائزنگ کی وجہ تنقید کرنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment