March 29, 2020

انٹرنیٹ پر غلط خبریں اور افواہیں کرونا وائرس کا علاج نہیں

Illustration by Michele Rosenthal for American Scientist

Read the English version of this story here.

آج کل ہر طرف کرونا وائرس کے خوف نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ جس کسی سے بات کریں اس کا آغاز کرونا سے ہو کر اختتام بھی کرونا پر ہو رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہے۔ گلوبل معیشت تنزلی کی نئی منازل طے کر رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس مرض کے بڑھتے مریضوں کی تعداد کی وجہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ایک گھبراہٹ کی صورتحال جنم لے رہی ہے۔

پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد نے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے چیلنجز کو بڑھا دیا ہے، وہیں عوام میں بھی اضطرابی بڑھ رہی ہے۔ اور اسی اضطرابی کیفیت میں کرونا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے لوگ نہ صرف آن لائن اور آف لائن طرح طرح کی تھیوریاں پیش کر رہے ہیں بلکہ کرونا کا علاج بھی بتا رہے ہیں۔

سائنسدان اس وائرس کا علاج ڈھونڈنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہی حاصل ہو سکی۔ لیکن اگر آپ آن لائن دیکھیں تو کرونا سے بچاؤ اور علاج سے متعلق بہت سے طریقے اور ٹوٹکے دستیاب ہیں۔ کہیں آپ کو لہسن کھانے کا مشورہ ملے گا اور کہیں پیاز سے اس کا علاج ممکن بتایا جا رہا ہے۔ اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ نہ صرف ان ٹوٹکوں، جو کہ زیادہ تر ڈس انفارمیشن یہ جھوٹی خبر اور مفروضوں پرمشتمل ہیں، پر یقین کر رہے ہیں بلکہ ان کو آگے بھی پھیلا رہے ہیں۔

ڈس انفارمیشن انٹرنیٹ پر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی روک تھام کے لئے دنیا بھر کی حکومتیں مسلسل پالیسی کے حوالے سے کام کر رہی ہیں لیکن اب تک کوئی حل نیہں نکلا ہے۔ جہاں حکومتی ستح پر اس پر کام چل رہا ہے، وہیں سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اپنے کمیونٹی سٹینڈرڈ اس کے مطابق بدل رہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی مفید حل سامنے نہیں آیا ہے۔ اور جہاں دنیا بھر میں ایک جان لیوا وبا پھیل رہی ہے، وہیں انٹرنیٹ پر جھوٹے مواد تک لوگوں کی رسائی بھی بڑھتی نظر آرہی ہے۔

ہم نے کچھ لوگوں سے اس متعلق بات کی کہ وہ کرونا سے نمٹنے کے لیے کیا کر ہیں اور ایسا کرنے کی معلومات انہیں کہا سے ملی ہیں اور کیا انہوں نے اس معلومات کی کہیں سے تصدیق بھی کی ہے؟

وحید ایک ٹی وی چینل کے لیے کام کرتے ہیں اور کرونا وائرس کو لیکر کافی پریشان بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ وہ کیا لائحہ عمل اختیار کرنے کا سوچ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ آج کل وہ ان غذاؤں کا استعمال زیادہ کر رہے ہیں جن میں وٹامن سی زیادہ ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا کہ وہ ایسا کن وجوہات کی بنیاد پر کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ کرونا سے لڑنے کے لیے انسان کے امیونٹی سسٹم کا مضبوط ہونا ضروری ہے اور یہ انفارمیشن انہیں انٹرنیٹ سے ملی ہے اس لیے وہ ایسا کر رہے ہیں ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے اس انفارمیشن کی کہیں سے تصدیق کی ہے تو ان کا جواب نفی میں تھا ۔ ان کے بقول یہ تو ثابت شدہ بات ہے کہ وٹامن سی اس وائرس کے خلاف کارآمد ہے۔ ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کے مطابق یہ بات ثابت شدہ نہیں کہ وٹامن سی کرونا وائرس کے خلاف کارآمد ہے اور اگر یہ کارآمد ہو گا بھی تو اس کا بہت تھوڑا سا عمل دخل ہو گا۔ اور ان کے بقول ایسے کوئی شواہد ابھی تک میسر نہیں کہ مختلف سپلیمنٹس جیسا کہ وٹامن سی اور زنک کرونا کے خلاف کارآمد ہیں۔

افتخار ایک سٹوڈنٹ ہیں اور کرونا کی وجہ سے بالکل پریشان نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک تو میڈیا نے فضول میں اس کرونا کو اٹھایا ہوا ہے اور دوسرا ویسے بھی اب موسم گرم ہو رہا ہے تو گرم موسم میں یہ وائرس خودبخود ختم ہو جائے گا اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت بالکل نہیں۔ جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ انہیں کیوں لگتا ہے کہ ایسا ہو گا تو انہوں نے ڈاکٹر فرحان ورک کے ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ڈاکٹر نے کہا ہے اور ان کے لاکھوں فالورز ہیں تو وہ کوئی بات بغیر تصدیق کے تھوڑی کریں گے۔ یا د رہے ڈاکٹر فرحان ورک پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ کے بانیوں میں سے ہیں اور ان کے ٹوئیٹر پر لاکھوں کی تعداد میں فالورز ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ابھی تک ایسے کو ئی شواہد دستیاب نہیں کہ یہ کہا جا سکے کہ گرم موسم کے ساتھ یہ وائرس ختم ہوتا چلا جائے گا۔ اور اس وائرس سے بچنے کا فی الحال سب سے آزمودہ حل حاتھوں کو اچھی طرح دھونا ہی ہے۔

شیراز آفس بوائے کی جاب کرتے ہیں اور ان سے گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ بھی اب کرونا وائرس کے علاج میں تقریباً ماہر ہو چکے ہیں۔ جب ان سے کرونا کے حوالے سے غیر رسمی بات چیت ہوئی تو انہوں نے بھی بہت سے ٹوٹکوں سے کرونا کے علاج کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کے بقول لہسن اور ادرک کا استعمال اس بیماری میں بہت مفید ہے۔ زیادہ پانی پینے سے بھی اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ ایسے گردے صاف ہوتے ہیں اور وائرس جسم میں زیادہ دیر نہیں رہ پاتا۔ ان کے بقول لیموں کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ جب ان سے اس کہ متعلق پوچھا گیا کہ آپ کو یہ ساری معلومات کہاں سے ملیں تو ان کا کہنا تھا کہ فیس بک سے انہیں یہ ساری معلومات حاصل ہوئی ہیں اور ان میں سے کچھ پر وہ عمل بھی کر رہے ہیں۔ جب ان سے ان سارے علاج کے مستند ہونے کے متعلق پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ جب اتنے سارے لوگ اپنی فیس بک سے شیئر کر رہے ہیں تو یہ انفارمیشن ٹھیک ہی ہو گی۔

آپ کسی سے بھی بات کر لیں ہر کسی کے پاس کوئی نہ کوئی حل موجود ہے۔ اور وہ اس کو دوسروں تک پہنچانے کو صدقہ جاری سمجھ کر بلا تصدیق آگے تک پھیلا رہے ہیں۔ حالانکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور دوسرے بہت سے ادارے ان ساری تھیوریوں اور علاجوں کے متعلق کئی وضاحتیں جاری کر چکے ہیں لیکن یہ شیطان کی آنت کی طرح پھیلتی جارہی ہیں۔ کسی کے پاس ادرک لہسن کا علاج ہے تو کسی کے پاس گرم پانی سے نہانے اور غرارے کرنے کا۔ کوئی وٹامن سی سے کرونا کا توڑ بتا رہا ہے اور کوئی زیادہ پانی پینے کے مشورے دے رہا ہے۔ اور تو اور ڈاکٹر فرحان ورک جیسے پڑھے لکھے ڈگری یافتہ ڈاکٹر گرم موسم میں وائرس کے خاتمے کی نوید سنا رہے ہیں۔ اور اس طرح کی غلط انفارمیشن آپ کو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ملیں گی چاہے وہ فیس بک ہو، ٹوئیٹر ہو، انسٹاگرام ہو یا واٹس ایپ۔

جب ہم نے فیس بک سے اس کے بارے میں پوچھا کہ وہ اس طرح کی غلط معلومات کو روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومتِ پاکستان اور بہت سی ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ، جن میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی شامل ہے، کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان آرگنائزیشن کی مدد سے بہت سے ایسے غلط مواد جو کہ لوگوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کو انہوں نے فیس بک سے ہٹایا ہے اور یہ کام مسلسل جاری ہے۔ واٹس ایپ اور انسٹا گرام کے متعلق بھی ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ وہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلنے والی غلط انفارمشن کو روکنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ذمہ داری صارف کی بھی ہے کہ وہ بغیر تصدیق کرونا وائرس کے حوالے سے موصول ہونے والی معلومات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

تو سوال یہ ہے کہ ان ساری معلومات سے بچا کیسے جائے؟ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے کسی بھی اس قسم کی اطلاع پر یقین نہ کریں۔ ان اطلاعات کو چیک اور ویری فائی کرنے کی کوشش کریں۔ سنی سنائی بات پر یقین بالکل نہ کریں اور اسے آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بہت ساری انفارمیشن اس حوالے سے جاری کر رہی ہے، اس کو دیکھنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے اس طرح کے بے یقینی کے ماحول میں افواہیں اور غلط معلومات کا پھیلاؤ بہت زیادہ اور بہت تیز ہوتا ہے۔ اور اس ماحول میں جہاں آپ کو کرونا سے لڑنا ہے وہیں آپ کو ان غلط معلومات سے بھی لڑنا ہو گا۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment