February 23, 2020

آزادی اظہار کو سب سے زیادہ نقصان ڈریکولین لاز سے ہوا ہے: جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے زیرسماعت مقدمات پر
میڈیا رپورٹنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا ، کیا یوٹیوب پر اپنا چینل چلانے والوں پر قانون کا اطلاق ہوتا ہے؟جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن حامد میر نے عدالت کی معاونت کرتے ہوئے بتایا کہ پیمرا سوشل میڈیا کے حوالے سے ڈریکولین لازسامنے لا رہا ہےجبکہ سائبر قوانین موجود ہیں جن پر عمل درآمد ہوسکتا ہے۔


اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے زیرسماعت مقدمات پر میڈیا رپورٹنگ کے حوالے سے کیس کی سماعت کی ۔سینئر صحافی ضیاء الدین اور جاوید جبار نے بطور عدالتی معاونین اپنا جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروایا۔ سینئر صحافی حامد میر بطور معاون اپنا جواب پہلے ہی جمع کروا چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک پٹیشن میں مجھے بتایا گیا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز کے لیے ریگولیٹر نہیں ہیں اور صحافیوں پر ریگولیٹر نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہو گیا ہے،رٹ میں بتایا گیا کہ وکیل بھی ریگولیٹر کے نیچے ہیں لیکن صحافیوں کے لیے ایسا کچھ نہیں۔ کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے آزادی اظہار رائے کو بھی ہم نے مدنظر رکھنا ہے،ہم بھی انسان ہیں جو میڈیا کہتا ہے اس کا اثر ہم پر بھی ہوتا ہے۔ کیا یوٹیوب پر اپنا چینل چلانے والوں پر قانون کا اطلاق ہوتا ہے؟سینئر صحافی حامد میر نے بتایا کہ سائبر قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد ہوسکتا ہے۔

پیمرا سوشل میڈیا کے حوالے سے ڈریکولین لازسامنے لا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا آزادی اظہار رائے کو سب سے زیادہ نقصان ڈریکولین لاز سے ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کسی پر بہتان لگانے کے حوالے سے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر صحیح عمل نہیں ہورہا،پاکستان میں ہتک عزت کے قوانین مؤثر نہیں لہذا کچھ لوگ بیرون ملک میں ہتک عزت کے مقدمے دائر کرتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا کہ کیس ہمارے پاس آنے سے پہلے لوگ ملزم کو مجرم بنا دیتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے زیرسماعت مقدمات پر میڈیا رپورٹنگ کے حوالے سے کیس میں سی پی این ای ،اے پی این ایس ، پی بی اے اور پی ایف یو جے کو 7 مارچ تک تحریری جواب میں اپنی تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment