July 13, 2020

آئی پی وائٹ لسٹنگ کا عمل روکا جائے۔ آئی ایس پی اے کے

March 18, 2020 —

پاکستان میں انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرنے والی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم انٹرنیٹ سروس پرووائڈر ایسوسی ایشن پاکستان (آئی ایسں پی اے کے) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی پر کچھ اداروں کے مفادات کے تحفظ کے الزامات عائد کرتے ہوئے آئی پی وائٹ لسٹنگ کےعمل کوروکنے کا مطالبہ کر دیاہے۔

آئی پی وائٹ لسٹنگ وہ مر حلہ ہے جس کے تحت پی ٹی اے سروس پرووائڈرز کی جانب سے کسی کلائنٹ کی آئی پی وائٹ کرنے کی درخواست کا جائزہ لیکر اس کلاننٹ کے آئی پی ایڈریس کے حوالے سے فیصلہ کرتاہے۔

نمائندہ تنظیم کی جانب سے چیئرمین پی ٹی اے کو لکھے گئے خط میں پی ٹی اے کے اختیار کردہ طریقہ کار کی خامیاں بیان کرتے ہوئے آئی پی وائٹ لسٹنگ پراسس کو روکنے اور اس کا از سرِنو جائزہ لینے کا کہا گیا ہے۔

 وہاج سراج کی جانب سے لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ آئی پی وائٹ لسٹنگ کے رولز جاری کرتے وقت براڈ بینڈ انڈسری اور آئی ٹی منسٹری کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی گئی اور کنسلٹیشن کے پراسس میں بھی انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔  اورصرف لونگ ڈسٹنس انٹرنیشنل آپریٹرز کے ساتھ کنسلٹیشن کو محدود رکھا گیاہے۔ جبکہ ان ساری بحث میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے تحفظات کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔

وہاج سراج کے دستخط سے جاری کردہ خط میں پی ٹی اےکےوائٹ لسٹنگ کےعمل کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہےکہ اس سارے عمل میں آٹھ سے دس دن لگ جاتے ہیں۔ آجکی دنیا میں کون سی کمپنی اتنا انتظار کر سکتی ہے۔

 خط کی دستیاب کاپی کےمطابق موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے جس میں کرونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کو گھروں سے کام کرنےاورطلبہ کوآن لائن کلاسسز کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ایسے میں پی ٹی اے کی طرف سے آئی پی ایڈرسسز کےبلاک کر نے کا عمل اصل میں کچھ خاص گروپوں کےمفادات کے تحفظ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں خط میں مطالبہ کیاگیاہے کہ پی ٹی اےتین ماہ کے لیے ان رولز پر عمل درآمد روک دے اور ان رولز پر ایک جامع کنسلٹیشن اورایسے آن لائن پورٹل کی موجودگی  جسں کے تحت پراسس اور اپرول میں صرف ساٹھ منٹ کا وقت لگے کے بنائے جانے تک ان رولز پر عملدرآمد نہ کروایا جائے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق آج اس خط پر اتھارٹی اپنا موقف پریس ریلیز کی صورت میں کسی وقت دے گی ۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment